یروشلم،14؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف کھلی جارحیت اور انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔اسرائیل کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کی کارکن اور خاتون رکن مجلس قانون ساز کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ چلائے بغیر چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔بین الاقوامی ادارے اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو جیلوں میں قید کرنا ایک غیر قانونی اور غیر انسانی فعل قرار دے رہے ہیں۔اسرائیلی پولیس نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ممبر پارلیمنٹ خالدہ جرار کو چند روز قبل مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ میں ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے چند روز بعد اسرائیل کی فوجی عدالت نے انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے انہیں چھ ماہ جیل کی سزا سنائی ہے۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کی کارکن خالدہ جرار فلسطینی شہریوں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کی وجہ سے اس سے قبل بھی متعدد بار قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر چکی ہیں۔